JPN | PL
Strona główna Popularne Muzyka Rozrywka Sport Śmieszne

Mai Chhota Sa Ik Larka hoon by Akhter Qureshi ( Rare Pak Patriotic Song )

2015-01-03 2,095 Dailymotion

جنگِ ستمبر کے دوران ریڈیو لاہور سے بچوں کے لیے نشر ہونے والا ایک پرعزم اور یادگار مگر اب نایاب قومی نغمہ، جسے اختر قریشی نے گایا تھا، اس خوبصورت نغمہ کو جناب جمیل الدین عالی نے تحریر کیا تھا ، بعد ازاں یہ سندھ ٹیکسٹ بک کی چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب میں بھی شاملِِ نصاب تھا ، اس نغمہ کے گلوکار جناب اختر قریشی آج کل بارگاہِ رسالت(ص) میں نعتیہ کلام ہی پڑھتے ہیں ، اس نغمہ کو ریکارڈ کرواتے ہوئے ان کی عمر 9 برس تھی اور وہ تیسری جماعت کے طالبعلم تھے ، اس کے علاوہ انہوں نے جنگِ ستمبر ہی کے دوران "ہم معصوم سپاہی" اور نسیم بیگم کے ہمراہ " اے پھول سے مجاہدو ! تم کو میرا سلام اے مادرِ وطن اونچا ہو تیرا نام " بھی گایا۔
یہ نغمہ ایک زمانہ میں بچے بچے کو زبانی یاد ہوتا تھا جس میں وہ اپنی کم سنی کے باوجود وطنِ پاک سے اپنے عزم کا اظہار کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے مشاہیر کے کارناموں کو بھی یاد رکھتا ہے ،پھر ایک سچا مسلمان اور پاکستانی بچہ کیسا ہونا چاہیئے وہ اس نظم میں شاعر نے بتایا ہے، پہلے اسی طرح کی نظمیں بچوں کو یاد ہوتی تھیں جب والدین اور تعلیمی ادارے بھی بچون کی تربیت قومی خدمت سمجھ کر کرتے تھے، س وقت بچوں کی زبان پر لچر قسم کے فلمی گانوں کی بجائے قومی ترانے ہوا کرتے تھے،اسکولوں میں گانوں کا ذکر ہی نہ تھا بلکہ جب بھی کبھی گانے کی بات ہوتی تو وہ ملی نغمہ ہی ہوتا۔
یہ نغمہ پاکستان کے ان تمام بچوں کے نام جنہوں نے انتہائی کمسنی ہی میں وطنِ پاک کا نام روشن کیا، بالخصوص ہماری قومی تاریخ کی نہایت کم سن قومی ہیروئن ارفع کریم رندھاواؒ جنہوں نے مائیکروسافٹ کی دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔ جن کا نام سنتے ہی ملالہ کی طرح چہ مگوئیاں نہیں ہوتیں بلکہ قوم کے ہر طبقہ ،ہر فکر اور ہر فرد کی نگاہیں احتراماََ جھک جاتی ہیں ۔
نغمہ
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں
پر کام کروں گا بڑے بڑے
جتنے بھی لڑاکا لڑکے ہیں
میں سب کو نیک بناؤں گا
بکھرے ہوئے جو ہم جولی ہیں
ان سب کو ایک بناؤں گا
سب آپس میں مل جائیں گے
جو رہتے اب لڑے لڑے
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں
پر کام کروں گا بڑے بڑے
یہ علم کی ہیں جو روشنیاں
میں گھر گھر میں لے جاؤں گا
تعلیم کا پرچم لہرا کر
میں سرسید بن جاؤں گا
بے کار گذاروں عمر بھلا
کیوں اپنے گھر میں پڑے پڑے
میں چار طرف لے جاؤں گا
اقبالؒ نے جو پیغام دیا
میں ہی وہ پرندہ ہوں جس کو
اس نے شہباز کا نام دیا
اب میرے پروں سے چمکیں گے
سب ہیرے موتی جڑے جڑے
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں
پر کام کروں گا بڑے بڑے

Udostępnij znajomym